یتیم اور لاوارث
یتیم اور لاوارث السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ یتیمی ساتھ لاتی ہے زمانے بھر کے دکھ، سنا ہے کہ باپ زندہ ہو تو کانٹے بھی نہیں چبھتے آپ کو پتہ ہے روٹی امیر شہر کے کتوں نے چھین لی فاقہ غریب شہر کے بچوں میں بٹ گیا ،چہرہ بتا رہا تھا کہ اسے مارا ہے بھوک نے حاکم نے کہا کچھ کھا کر مر گیا حکمراں ایسا ہی بولتا ہے جب غربت سے کوئی مرتا ہے اسے کیا احساس اس کی بھوک کیا چیز ہوتی ہے آپ کسی یتیم بچے سے پوچھو کہ بھوک کیا چیز ہوتی ہے آپ کو پتہ ہے بھوک پھرتی ہے ننگے پاؤں کی طرح ہمارے ملک میں لیکن دولت جو ہے ظالم اپنی تجوری میں چھپا کر بیٹھا ہے ہمارے ملک میں بچے ننگے بدن چلتے ہیں سڑکوں پر لیکن اس کا خیال لوگوں کو نہیں ہوتا وہ تو جو قبر ڈھکی ہے اس پر چادر چڑھانے میں لگے ہوئے ہیں آپ کو معلوم ہونا چاہیے مفلس کے بدن کو بھی چادر کی ضرورت ہوتی ہے اب تو دل یہی کرتا ہے کہ مزاروں پر اعلان کیا جائے کی قبروں کو نہیں ضرورت ہے یتیموں لا وارثوں کو ضرورت ہے آپ کی چادر کی آپ کو تو پتہ ہوگا جن کے والدین نہیں ہوتے وہ لاوارث ہو جاتے ہیں وارث تو چلے جاتے ہیں لاوارث رہ جاتے...
Really amazing
ReplyDeleteThank you so much for these facts
ReplyDeleteAmazing
ReplyDeleteGood
ReplyDeleteAmazing facts
ReplyDeleteKnowledgeable
ReplyDelete