فیشن اک عام وباء
السلامُ علیکم و رحمتہ اللہ
فیشن اک عام وباء
بڑے معزز گھرانے کی عورتیں خواتین بچیاں بہنیں یہود و نصاری اور فلموں میں کام کرنے والی ایکٹرز اور مختلف کھیلوں میں حصہ لینے والی بے حیا عورتوں کی تقلید کرتی نظر آتی ہیں
فلموں اور ڈراموں کے دیکھنے کی اک نحوست یہ بھی ہے کہ نو عمر نو خیزبچیاں لڑکیاں تہذیب نو کی دلدادہ اور دیوانی اور انہیں کے جیسا لباس زیب تن کرنے میں فخر محسوس کرتی ہیں
آخر یہ کیسی ترقی ہے ???????
کیسی تاریک روشنی ہے بہت سی بچیاں عورتیں غیر مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے طرح طرح کے انداز اختیار کرتی ہیں مثلا ۔برقعہ ہی لے لیجئے اک تو ہاتھ آستینوں سے باہر نکال دیتی ہیں اور باریک اور تنگ اسقدر پہنتی ہیں جسم کی خدوخال نظر آئے اور اسقدر پرکشش فیشنیبل تیار کرتی ہیں استغفر اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر مردوں کی نظروں کا شکار ہوتی ہیں جو نہ دیکھنا چاہے وہ بھی مڑ مڑ کے دیکھتا ہے پھر جو ہوتا ہے سو ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر کپڑے ایسے جس سے جسم کی ساخت جھلکتی ہے۔حدیث پاک کے مطابق ایسا کپڑا نہ پہننے کے برابر ہے اس سے نماز نہیں ہوتی
اسی باریک اور چھوٹے دوپٹے کی اوڑھنی استعمال کی جاتی ہے جس سے پورا ستر بھی نہیں ڈھکتا اور نماز بھی نہیں ہوتی شکوہ کرتی ہیں ہمیں گرمی پریشان کرتی ہے ۔باریک چست تنگ لباس و دوپٹہ پہن کر نامحرموں کے سامنے آجاتی ہیں
غرض پردے کو بطور فیشن لباس کو فیشنی زیب تن کیا ہوا ہے اسی پر فخر کرتی ہیں اور بڑائی بھی بیان کرتی ہوئی نظر آتی ہیں انکے گھر کے مرد حضرات وہ بے خبر یا جان کر اندھے بنے ہوئے ہیں غیرت ختم ہوچکی شاید ۔یہی سب وجہ جس نے غضب الہی کو دعوت دے رکھی ہے ۔ہمارے معاشرے میں بے حیائی عروج پر ہے جو حیا و شرم کرے اسے تنگ نظر ترقی سے دور گردانتے ہیں
ہمہاری غفلت وپستی پہ عبرت بھی روتی ہے
سبھی بیدار ھیں اک قوم مسلم ہے کہ سوتی ہے
جانے کب جاگے گی غیرت مسلم جو مسلم شدہ تھی زمانے میں۔
اسلام کی بیٹیاںام اسامہ عبدالرب شیخ
Comments
Post a Comment
If you have any question let us know.