(اماموں کے تعلق سے ایک اہم پیغام۔)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
(اماموں کے تعلق سے ایک اہم پیغام۔)
آخر اماموں پر اتنا ظلم کیوں؟
ذرا دل کی گہرائیوں سے بتاؤ ایسا کیوں؟
—————————————————
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آج ایک انجینئر نقشہ بنانے کی فیس پہلے ہی طے کر لیتا ہے
2️⃣ آج ایک ڈاکٹر اپنی فیس پہلے ہی طے کر لیتا ہے۔
3️⃣ آج ایک آپریٹر اپنی فیس پہلے سے طے کر لیتا ہے۔
4️⃣ آج ایک ٹیکسی والا اپنا کرایا پہلے ہی طے کر لیتا ہے۔
5️⃣ آج ایک کرانے والا اپنا سامان کا ریٹ پہلے ہی طے کر لیتا ہے۔
6️⃣ آج ایک سبزی والا اپنی سبزی کا من کا بھاؤ پہلے طے کر لیتا ہے۔
حتی کہ آج ایک بھنگی بھی گندگی صاف کر نے سے پہلے ہی اپنی مزدوری طے کر لیتا ہے ۔
نوٹ۔۔
مانا کہ انہوں نے اپنے ہنر کے دم پر کام کے حساب سے جس نے جتنا مانگا اسے دے دیا گیا۔۔
لیکن آج ایک امام صاحب ہی ہیں جن کو کبھی ہم نے اتنا نہیں دیا جتنا انہیں چاہیے تھا۔اگر ہمارے امام صاحب ہر کام کا ریٹ پہلے طے کر دے تو۔۔
مثلا۔۔
1️⃣ نماز جنازہ پڑھانا 500 روپئے۔۔
2️⃣ دم کرنے کی 800 روپیے۔۔
3️⃣ نکاح خوانی 5000 ہزار روپیہ۔
4️⃣ خاص خطابت 2000۔10000ہزار روپے۔۔
5️⃣ خطبہ جمعہ 1000۔5000 روپیے ،وغیرہ
اب آپ کہوگے صاحب کیا شریعت میں اس کی اجازت ہے۔۔?
تو ہاں شریعت میں اس کی اجازت ہے۔شریعت میں تو یہاں تک حکم ہے۔کہ مزدور کی مزدوری اس کے پسینہ سوکھنے سے پہلے پہلے ادا کر دینا چاہیے۔۔
اور اس شخص میں کوئی خیر نہیں جو لوگوں سے کام لے اور اسے کچھ نہ دے۔۔
تو آپ کہو گے صاحب یہ ہمارے امام صاحب تو ہمارے سردار ہیں مزدور تھوڑی۔۔
تو پھر آپ چوراہے پہ جا جا کر کیوں کہتے ہو آج امام صاحب نے مسجد میں جھاڑو نہیں لگائی۔۔پانی کی ٹنکی نہیں بھری۔۔صف نہیں بچھائی۔۔ٹوپی اٹھا کر نہیں رکھی۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔
آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ یہ سب کام ایک مزدور سے کرایا جاتا ہے یا پھر سردار سے۔۔
خدارا امام صاحب کو اگر آپ نے سردار بنایا ہے تو سردار کا ہی مقام دیجئے ایک نوکر کا نہیں۔
کیوں امام صاحب کو ستاکر رلا کر اپنی دنیا اور آخرت برباد کر رہے ہو۔
لیکن آپ بتائیے کیا آپنے شریعت کی کتنی بات مانی ہے۔۔
تو پھر آپ کہو گے صاحب ڈاکٹر نے انجینئر نے آپریٹر نے بڑی محنت سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔۔
تو صاحب آپ کو پتہ ہے ایک مولوی صاحب کو مصلے تک پہنچنے کے لئے دس سے پندرہ سال لگ جاتے ہیں۔لوہے کے چنے چبانے کے برابر محنت کرنا پڑتی ہے تب جا کر یہ مقام ملتا ہے۔۔ صاحب ایسے ہی علم حاصل نہیں ہو جاتا ہے۔۔
پھر اماموں پر اتنا ظلم کیوں ۔۔
لہزا انہیں بھی اتنا ہی ملنا چاہیے جتنا وہ چاہتے ہیں۔۔
ائمہ حضرات سے میری گزارش ہے کوئی بھی کام ہو آپ صاحب خانہ سے کھل کر بولیں شرما شرمی میں اپنا نقصان نہ کریں۔۔ آپ کے ساتھ بھی ایک پریوار ہے اس کے دیکھ بھال کی ذمہ داری ہوتی ہے۔۔یہ عوام اتنی سمجھدار نہیں کی ایک امام صاحب کے دل کا درد سمجھ سکے۔۔
خدا نخواستہ کل کو اگر آپ کو کچھ ہوتا ہے تو یہی عوام کہے گی امام صاحب کی چھٹی کر دو ان سے کچھ نہیں بنتا ہے، وغیرہ
اور بہت سے کم عقل تو یہاں تک کہہ گزرتے ہیں کہ امام صاحب کواتنی ترقی کیسے مل گئی، گاڑی کیسے لے لی، بنگلہ کیسے بنا لیا۔وغیرہ
اگر ائمہ حضرات میری اس پوسٹ سے متفق ہیں تو میرا سپورٹ کریں اور اپنے کاموں میں تبدیلی کریں اور اس پوسٹ کو سبھی گروپ میں سینڈ کریں
Comments
Post a Comment
If you have any question let us know.